کراچی(ویب ڈیسک)دنیا کے معروف دانشور اور مشہور امریکی فلاسفر پروفیسر نوم چومسکی نے کہاہے کہ پاکستان کا دورہ کیے ہوئے 20 سال ہوگئے۔پاکستان میں بظاہر نظام تعلیم سے سائنس غائب ہوچکی،اگرپاکستان مذہبی توہمات کی دنیا سے باہر نہیں آئے گا تو اس کا کوئی مستقبل نہیں،مودی کی قیادت میں بھارت میں سیکولرازم کو خطرہ ہے،ٹرمپ متبادل حکومت بناسکتے ہیں
نجی ٹی وی کے مطابق دنیا کے معروف دانشور پروفیسر نوم چومسکی نے بذریعہ ویڈیو لنک کراچی کی نجی یونیورسٹی میں لیکچر دیتے ہوئے کہا ہےکہ اُنہیں پاکستان کا دورہ کیے ہوئے 20 سال ہوگئے، پاکستان میں بظاہر نظام تعلیم سے سائنس غائب ہوچکی، اگرپاکستان مذہبی توہمات کی دنیا سے باہر نہیں آئے گا تو اس کا کوئی مستقبل نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نسلوں کو ان سوالوں کا سامنا ہے جو انسانی تاریخ میں کبھی ظاہر نہیں ہوئے اور یہ سوالات ایک بوجھ اور چیلنج ہیں۔نوم چومسکی نے خبردار کیا کہ دنیا میں جوہری جنگ کا خطرہ بڑھ رہا ہے، اگر اقدامات نہ کیے تو ماحولیاتی تباہی کا خطرہ بھی سر اٹھائے کھڑا ہے، جنوبی ایشیا کو ماحولیاتی تبدیلی سے جڑے خطرات کا سامنا ہے۔
کورونا کے حوالے سے امریکی دانشور کا کہنا تھا کہ ہم کورونا کی وبا سے بہت مہنگی اور ناگزیر قیمت چکا کر نکلیں گے، جنوبی کوریا نے کورونا وائرس کا اچھا مقابلہ کیا لیکن امریکا، بھارت اور برازیل نے کورونا کے خلاف اچھے اقدامات نہیں کیے، امریکی عوام دائیں بازو کی طرف سے پروپیگنڈا کا شکار ہوئی، چین کی ویکسین ٹیسٹ کے اہم مراحل میں ہے، چینی ویکسین پہلے دستیاب ہوسکتی ہے، امریکی حکومت چینی اقدامات کو نیچا دکھا رہی ہے۔نوم چومسکی نے خدشے کا اظہار کیا کہ ٹرمپ متبادل حکومت بناسکتے ہیں جبکہ مودی کی قیادت میں بھارت میں سیکولرازم کو خطرہ ہے ،مودی مسلمانوں کو کچلنے اور کشمیر میں ظالمانہ اقدامات کے ذریعے بھارت کا سیکولر تشخص تباہ کر رہے ہیں۔