Home / پاکستان / خاتون سرکاری افسر کاایک ماہ میں چار بار تبادلہ۔۔۔ پیچھے کیا کہانی چھپی ہے؟ جانئے

خاتون سرکاری افسر کاایک ماہ میں چار بار تبادلہ۔۔۔ پیچھے کیا کہانی چھپی ہے؟ جانئے

Sharing is caring!

پنجاب کی گریڈ 17 کی ایک سرکاری خاتون افسر فریدہ ترین کو حکومت نے ایک ماہ کے عرصے میں چار مرتبہ ٹرانسفر کردیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق گریڈ 17 کی فریدہ ترین اکتوبر 2020سے چیف سیکرٹری پنجاب کے آفس میں بحیثیت قائم مقام ڈپٹی سیکرٹری سٹاف کے فرائض سرانجام دے رہی تھیں، رواں برس11 فروری کو ان کا تبادلہ بطور اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ شہر کردیا گیا۔ابھی اسسٹنٹ کمشنر

کے عہدے کو سنبھالنے کا ان کا پہلا دن تھا کہ ایک نوٹیفکیشن موصول ہوا جس میں ان کے تبادلے کو منسوخ کردیا گیا، 5 روز بعد انہیں سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن محکمہ میں بطور سیکشن آفیسر (شعبہ سروسز11)تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔اس عہدے پربراجمان ہوئے ابھی انہیں 10 دن بھی نہیں گزرے تھے تبادلے کے نویں روز 25 فروری کو ان کا تبادلہ اسی محکمہ میں بطورشعبہ

سروسز1 کے عہدے پر کردیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ16 مارچ کو صرف 20 دن بعد ایک بار پھر ان کے تبادلے کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے انہیں محکمہ صنعت بطور سیکشن آفیسر تعینات کرنے کا حکم صادر فرمادیا۔یاد رہے کہ پنجاب کے اپنے رولز آف بزنس 2012 کے تحت سول سروسز ملازمین کے عہدوں پر تعیناتی کی کم از کم مدت تین سال ہے، تاہم پنجاب

حکومت نے اس قانون کی پرواہ نہیں کی اور ایکخاتون افسر کو ایک ماہ کے دوران 4 بار ٹرانسفر کردیا۔واقعے پر سول سروسز افسران کی تنظیم اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے پنجاب حکومت کے اس فیصلے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے ۔خبر کے منظر عام پر آتے

ہی گزشتہ روز سے ٹویٹرصارفین نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کرنا شروع کیا کہ ٹویٹر پر اس سے متعلق ہیش ٹیگ ٹرینڈنگ میں آگیا، سوشل میڈیا صارفین نے اس اقدام کو سپریم کورٹ کے فیصلوں اور سول سروسز رولز کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب جام کمال سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔

About dnewswala

Check Also

15+ Images Explain How To Change Old Tires Into Stunning Works Of Art

Perhaps you would like to try your hand at creating one of these sculptures if …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *