Home / اہم خبریں / موجودہ حکومت کی بڑی پریشانی حل! شوکت ترین نے اہم ترین ذمہ داری قبول کر لی

موجودہ حکومت کی بڑی پریشانی حل! شوکت ترین نے اہم ترین ذمہ داری قبول کر لی

Sharing is caring!

شوکت ترین نے عمران خان کی ٹیم میں اہم ترین ذمے داری قبول کر لی، سابق وزیر خزانہ کے مطابق حکومت کی جانب سے ایکنامک ایڈوائرزی کونسل تشکیل دی جا رہی ہے جس میں ایڈوائرز کے طور پر ذمے داریاں نبھاوں گا۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹیلی ویژن چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ حفیظ شیخ کو چاہیے تھا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات

مرحلہ وار کرتے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام مرحلہ وار کرنا چاہئے تھا،آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ٹھیک طریقے سے نہیں کئے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام ملک کے عوام کیلئے ٹھیک نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف تو کیا مجھے کوئی پنجرے میں بند نہیں کر سکتا، اگر مجھے عہدہ ملا تو عوام کی بہتری کیلئے کام کروں گا۔اکنامک

ایڈوائزری کونسل بن رہی ہے اور وہ اس کے کنوینر ہوں گے ۔ شوکت ترین نے کہا کہ کسان مر رہے ہیں، زراعت میں بھی اصلاحات لانی ہونگی۔ہمیں ٹیکس نہ دینے والو کو جیل میں ڈالنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ سوچ بدلنے کیلئے حکومتی ٹیم تبدیل کی گئی ہو۔ جہاز کے کپتان کو مضبوط ہونا پڑےگا ورنہ کشتی آگے نہیں بڑھے گی۔ واضح رہے کہ حکومت نے حفیظ شیخ سے وزارت خزانہ کا

قلمندان لے کر حماد اظہر کو سونپ دیا تھا، جس کے بعد یہ قیاص آرائیاں کی جانے لگیں کہ حماد اظہر کو عارضی طور پر وزیر خزانہ بنایا گیا ہے، جبکہ حکومت شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنانا چاہ رہی ہے۔بعدازاں وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے اس بات کی تصدیق کی کہ حکومت نے شوکت ترین کو کسی قسم کی کوئی آفر نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ شوکت ترین کو وزارت خزانہ کی آفر کی

خبریں بے بنیاد اور جھوٹی ہیں، ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ دوسری طرف شوکت عزیز نے کہا تھا کہ جب تک ان پر نیب کے کیسز ختم نہیں ہوتے، میں حکومت کی جانب سے کوئی بھی عہدہ یا وزارت قبول نہیں کروں گا۔

About dnewswala

Check Also

25+ Times People Thought Of Stupid Solutions That Actually Work

The only limit to accomplishing anything in life is your imagination. However, creativity and inventions …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *